وعده ہے ہمارا! نہیں بھولیں گے حسینا
بدن سے جدا ہوجانے والے سروں پر سلام
ایک بار اور مجھے گود میں لے لو بابا
نیزے پر اٹھائے گئے سر پہ سلام
کربلا ہم نے سنی، دیکھی ہے سجّاد نے
کربلا ہم نے سنی، دیکھی ہے سجّاد نے (بقیع)
غازی کے بھتیجے پر کیا وقت یہ آیا ہے
یارب! کوئی معصومہ زنداں میں نہ تنہا ہو
خدایا! رقیہ کے آنسؤوں کا واسطہ
اے غیرت مریم ترا بازار میں جانا
لاش اکبر کی جو مقتل اٹھا لائے حسین (ع)
عدلِ انسانی اور خون بہائے علی اصغر (ع)